حیض کو روکنا اور عمرہ اور طواف میں حجر اسود کے استلام کا طریقہ
سوال
(۱) حیض کو روکنے کیلئے بعض ایسی دوائیں ہوتی ہیں جو حیض کو مستقل طور پر روکدیتی ہے، اور بعض ادویات ایسی ہیں جو حیض کو مؤخر کر دیتی ہیں، یعنی جب تک اس دوا کو استعمال کیا جائے حیض نہیں آئیگا، اور جب استعمال ترک کیا جائے تو دوسرے یا تیسرے روز حیض آجاتا ہے، تو شرعاً اس قسم کی دوائیں استعمال کرنا رمضان میں یا ایام حج میں جائز ہیں یا نہیں؟ نیز مؤخر الذکر دوا کو حیض آجانے کے بعد کسی نے استعمال کر کے حیض کو روک دیا تو وہ طاہرہ شمار ہوگی یا نہیں؟ (۲)
جواب
(۱) رمضان المبارک کی خاطر حیض کو روکنے کی ضرورت نہیں، جتنے ایام حیض آیا ہو روزے نہ رکھے ہوں ان کی قضاء بعد میں کر دے، البتہ حج کے موقع پر اگر حیض کی وجہ سے طواف رکن میں تاخیر ہوئی اور جہاز کا نمبر نکل گیا، ٹھہر نا دشوار ہو،سارے قافلہ کا رکنا دشوار ہو تو ایسی حالت میں وہ دوا استعمال کر لی جائے، اور جب حیض جاری ہوگا اپنی عادت کے موافق جاری ہو یا دوا کے ذریعہ روکنے کے بعد جاری ہو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔