حجر اسود کا استیلام
سوال
(۱) سنگ اسود کے معاملہ میں جھگڑا تھا، جس کو اللہ کے محبوب صلى الله عليه وسلم نے طے فرمایا، سنگ اسود کو بوسہ دیا، کیا یہ سنت قیامت تک جاری رہے گی؟ بوسہ دینے کی وجہ کیا تھی؟ (۲) مشہور روایت ہے کہ اللہ کے پسندیدہ سید نا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس وقت فرمایا تھا جبکہ سنگ اسود کے پاس جو بڑا ہجوم آپس میں دھڑو پکڑ وغیرہ میں مصروف تھا کہ سنگ اسود تو ایک پتھر ہے، اگر اللہ کے محبوب صلى الله عليه وسلم نے بوسہ نہ دیا ہوتا تو میں بوسہ نہ دیتا، کیا توحید پر کچھ اثر ہو رہا تھا؟ (۳)
جواب
(۲) تا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ نافع یا ضار ہے،جیسا کہ بت پرست اپنے بتوں کو نافع وضار سمجھتے تھے۔ (۳) محض چومنا اس عقیدت کے ساتھ جس کا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صاف اظہار فرما دیا، ہرگز پرستش نہیں، بت پرست اپنے بتوں کو نافع وضار سمجھتے ہیں، اور ان کو سجدے کرتے ہیں، جو گروہ قبروں کو چومتا اور ان کے آگے سرجھکاتا ہے، وہ غلط کارخلاف شرع کرتا ہے، وہ اسلام کی تعلیم نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔