استیلام حجر اسود کا ثبوت
سوال
ایک صاحب کہتے ہیں کہ حجر اسود کو بوسہ دینا حج کے موقع پر نہ مسنون ہے نہ واجب نہ فرض، کلام پاک میں بھی اس کا ذکر نہیں، نہ حدیث میں وارد ہے نہ کسی صحابہ کا قول ہے، بلکہ لوگوں کی ایجاد ہے، کیا یہ قول درست ہے؟
جواب
حجر اسود کو بوسہ دینا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ثابت ہے، ان صاحب کا انکار کرنا حدیث وفقہ سے ناواقفیت اور جہالت پر مبنی ہے، تمام کتب فقہ میں جہاں بھی حج کا ذکر کیا گیا ہے، حجر اسود کو بوسہ دینا مذکور ہے”عن سالم عن ابيه قال رأيت رسول الله صلى الله حين يقدم مكة اذا استلم الركن الاسود اول ما يطوف يخب ثلاثة اطواف من السبع، بخارى ج ۱ ص ۲۱۸ / ان عمر بن الخطاب قال…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔