الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مال مسروقہ کی واپسی کی ایک صورت

سوال

ایک شخص نے بہت سی چوریاں کیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت دیدی، اب اس نے چاہا کہ مال مسروقہ ادا کر دوں، لیکن چوریوں کی کثرت کی وجہ سے حق والوں کو بھول گیا اور بعینہ وہ سامان بھی نہیں ہے، اب وہ اس کو کیسے ادا کرے؟

جواب

مال مسروقہ کی مقدار تخمینہ سے متعین کر کے مالک یا اس کے ورثاء کو پہونچادیں۔ اگر مالک یا اسکے ورثاء کا علم نہ ہو تو اتنی مقدار مالک کی نیت سے غریبوں کو صدقہ کر دیں، اور خدائے پاک سے توبہ واستغفار کرتے رہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو