محرمات میں آپس میں فرق ہے
سوال
حرام حرام سب برابر ہیں یا ان میں کمی بیشی ہے، مثلاً ایک شخص شراب پیتا ہے، یا خنزیر کا گوشت کھاتا ہے، دوسرا شخص اسکے ساتھ معازف،مزامیر کے ساتھ قوالی بھی سنتا ہے، تو دونوں کے گناہوں میں فرق ہے یا دونوں برابر ہیں، ایک شخص معازف ومزامیر کے ساتھ گانا گاتا ہے، یا اس میں اعانت کرتا ہے، یا اس پر لوگوں کو آمادہ کرتا ہے اور اس سے خوش ہوتا ہے، یا اس کو جائز بتاتا ہے، یا جو شخص قوالی سے منع کرے اس کو غلط بتا تا ہے، اسی طرح ایک شخص شراب اور خنزیر کو خود استعمال کرتا ہے، یا دوسروں کو کھلاتا پلاتا ہے، یا آسمیں مدد کرتا ہے یا…
جواب
جس چیز کو قرآن کریم میں حرام قرار دیا گیا اور اس کی حرمت لعینہ ہے، وہ اپنی حرمت کے لحاظ سے شدید ہے، حتی کہ اس کو حلالی اعتقاد کرنے پر تکفیر کی گئی ہے، جیسا کہ شرح عقائد طحطاوی اور بحر وغیرہ میں مذکور ہے، ایسا بھی ہے کہ ایک چیز کی حرمت نص قطعی میں مذکور نہیں مگر اس سے پیدا ہونے والے مفاسد بہت ہیں، اس اعتبار سے اس کی حرمت بھی خوفناک ہو جاتی ہے، بعض اوقات خود ایک حرام کا ارتکاب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔