کسی کو حکم تسلیم کرنے کے بعد اس سے رجوع
سوال
زید اور عمر کا ایک زمین کے متعلق اختلاف ہوا کہ اس زمین کو کس نے پہلے خریدا۔ اس معاملہ کا فیصلہ کرانے کے لئے دونوں نے ایک متقی عالم کو متفقہ طور پر پسند کر کے حکم اور فیصل مقرر کر دیا۔ زید نے عالم صاحب سے کئی بار ملاقات کر کے یہ کہا کہ تم فیصلہ اس طرح کرو کہ عمر اس زمین کا حق چھوڑے اور میں اس کے عوض عمر کو دس ہزار روپے یا جتنی بھی رقم آپ فرمائیں وہ رقم عمر کو دیدوں اور زید نے عالم صاحب سے یہ بھی کہا کہ اگر آپ اس کے خلاف فیصلہ کریں گے تو میں عدالت میں جاؤں گا اور آپ کے فیصلہ کو تسلیم نہیں کروں گا۔
جواب
حکم اور فیصل قرار دے کر کسی فریق کا یہ کہنا کہ اگر میرے خلاف فیصلہ کیا تو عدالت میں جاؤں گا، ظاہر کرتا ہے کہ اس کی نیت شرعی فیصلہ کرانے کی نہیں ہے بلکہ اپنے موافق ہی فیصلہ کرانے کی ہے (چاہے ثبوت اور شرع کے موافق ہو یا خلاف ہو) ایسی صورت میں اس کو لازم تھا کہ وہ حکم ہی تجویز نہ کرتا۔ لیکن جب حکم تسلیم کر لیا تب بھی حکم کے فیصلہ سے رجوع کرنے کا حق حاصل رہتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔