چوری حق اللہ یا حق العباد
سوال
چوری حقوق اللہ یا حقوق العباد کے لئے سوال کیا تھا کہ چوری وغیرہ توبہ سے معاف ہو جاتی ہیں یا نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا غالبا تین مرتبہ ”وان زنی وان سرق“ میں نے چوری کو حقوق العباد سمجھا تھا کیوں کہ بندہ کی چیز گئی؟
جواب
چوری حق اللہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانون کے خلاف کرتا ہے، حق العبد بھی ہے کہ دوسرے کا مال لیتا ہے، اگر مال موجود ہو تو اس کو واپس کرنا لازم ہے، حق اللہ ہونے کی وجہ سے چوری کی سزا ملے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔