الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

گناہ سے توبہ کافی ہے تو اسے سزا کیوں دی جاتی ہے

سوال

کیا توبہ کرنے سے گناہ بخشد یے جاتے ہیں، اور اگر بخشد یے جاتے ہیں تو زمانہ سابقہ میں یعنی صحابہ کرام کے زمانہ میں لوگوں کو سزائیں کیوں دی جاتی تھیں؟ کیا وہ لوگ توبہ نہیں کر سکتے تھے، اور اگر توبہ کر سکتے تھے، اور بہت سے لوگوں نے توبہ کیں بھی تو ان کو رجم کیوں کرتے تھے، (تبلیغ دین) مترجم مولانا عاشق الہی صاحب میں لکھا ہے کہ یہ جو شخص گناہ کرے اور اس کی شہرت بھی کرتا رہے تو حدیث میں آیا ہے کہ یہ گناہ کبھی معاف نہ ہوگا، ایسے گناہ کسی صورت سے بھی معاف ہو سکتے ہیں؟

جواب

توبہ جب اپنے شرائط کے مطابق ہوگی تو قبول ہو گی، اور گناہ بخشد یے جائیں گے، جب گناہوں پر دنیوی (حد) سزا اور اخروی عذاب ہر دو کا شریعت نے ترتب بتایا ہے، محض توبہ کرنے سے دنیوی سزا (حد) مرتفع نہیں ہوتی ہے، کذافی فتح القدیر تبلیغ دین میں یہ حدیث شریف کا مضمون ہے، گناہ کی شہرت ایک مستقل گناہ اور بڑا گناہ ہے، اس سے بھی توبہ ضروری ہے؟

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو