الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پیر پکڑ کر معافی مانگنا

سوال

پیر پکڑ کر معافی مانگنا اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟ اس لئے کہ پیر پکڑنے میں جھکنا پڑتا ہے اور کسی کے سامنے جھکنا درست نہیں ہے۔ پس اگر جائز ہے تو اچھا ہے یا نہیں؟

جواب

معافی مانگنے کے لئے پیر پکڑ نا کہیں نظر سے نہیں گذرا۔ بظاہر تو یہ برہمن کی تعظیم ہے۔ بغیر معافی کے بھی ان کے یہاں کسی کے پیر چھونے کا رواج ہے جس کو پیرا لاگن کہتے ہیں بطور پیغام بھی کسی کے پاس کہلاتے ہیں۔ ہماری طرف سے پیر لاگن کہنا۔ کس عالم زاہد کے پیر کو بوسہ دینا مصرح ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو