قرآن پاک کا حلف اٹھانے کے باوجود الزام لگانا
سوال
زید نے بکر کے اوپر ایک فحش کام کا الزام لگایا، اور اسی بات کا چند آدمیوں میں بکر کی موجودگی میں چرچہ کیا، بکر نے اپنے اوپر ایسا الزام نہ ہونے سے انکار کر دیا، جس پر زید نے قرآن پاک کا حلف دلایا، بکر نے صدق دل سے قرآن پاک اٹھایا کہ میں الزام بالا سے پاک ہوں، بعد حلف کے زید پھر بھی بکر کو اسی الزام بالا میں بدنام کرتا ہے، اور نئے الزام اور بھی لگاتا ہے، گویا کہ زید نے بکر کے حلف کا اعتبار نہیں کیا، ایسے حلف اٹھوانے کے بعد اس پر یقین نہ کرنے والوں کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب
کسی پر الزام لگانا بہت بڑا جرم ہے، حدیث شریف میں ہے کہ الزام لگانے والے کو پل صراط پر روک دیا جائیگا، کہ اس الزام کا ثبوت پیش کر، جب تک ثبوت نہیں پیش کر یگا، آگے نہیں جا سکے گا، یہ تو آخرت کا حکم ہے، دنیا میں بھی یہ ہے کہ جس کے پاس الزام کا ثبوت نہ ہو تو ملزم قسم کھانے کے بعد بری قرار دیا جائے گا، اگر شرعی حکومت میں الزام کا مقدمہ پیش ہو، اور ثبوت موجود نہ ہو تو الزام کی نوعیت…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔