الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چمار چودس میں سامان خرید نے جانا

سوال

دیو بند میں چودس میلہ جواہل ہنود صاحبان کا مذہبی میلہ ہے، اور چاند کی ۱۲ ۱۳ تاریخ کو پوجاپاٹ کی رسم منائی جاتی ہے، جس میں اہل اسلام کا شرکت کرنا یقیناً گناہ ہوگا، مذکورہ بالا تو اریخ کے بعد چند روز بازار وغیرہ رہتا ہے، جس میں اشیاء کی خرید و فروخت ہوتی ہے، بازار دو کا نہیں، پوجا پاٹ کے مندر سے دور خاصے فاصلہ پر لگتی ہے، اگر تواریخ مندرجہ بالا کے بعد اہل اسلام اس میلہ میں بانس کے سامان پیٹی سیروے لاٹھی، لکڑی کے پائے، بکس ہمسہریاں وغیرہ خریدنے کیلئے جائیں، تو کیسا ہے گناہ ہے یا نہیں جانا چاہئے یا نہیں؟

جواب

اگر چہ پوجاپاٹ کی تاریخیں صرف ۱۳/۱۲ رہیں، مگر یہ سب میلہ اس نام پر ہوتا ہے، اور اس میں شرکت کرنے والے اس نا جائز میلہ میں شرکت کرتے ہیں، ان تاریخوں کے گرز نے کے بعد بھی بقیہ ایام کا میلہ اس اصل میلہ کا بقیہ ہے، اگر کوئی شخص اس کے مقصد اصل سے بالکل جدا ہو کر محض اچھا سامان خریدنے کے لئے جائے تو وہ گو مقصد میلہ کی شرکت کا مجرم نہ ہو لیکن دوسرے لوگوں کے ظنون اس سے فاسد ہونگے، اور…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو