شرکیہ میلے میں تجارت کے لئے جانا
سوال
درگاہ (مزار) جہاں آج کل عرس یا میلے ہوتے ہیں اور جہاں خلاف شرع کام ہوتا ہے، اور وہاں پر مختلف مذاہب کے لوگ شرکت بھی کرتے ہیں یہاں پر ایک بڑے جید عالم صاحب فاضل دیوبند ہیں وہ فرماتے ہیں کہ ایسی جگہ جہاں عرس میلے میں خلاف شرع اور شرک بھی ہوتا ہے وہاں جانے سے آدمی مرتد ہو جاتا ہے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ آدمی مرتد نہیں ہوتا خرید و فروخت کی غرض سے وہاں جانے میں کیا حرج ہے جبکہ درگاہ بھی جہاں آج کل شرک کا معاملہ ہو رہا ہے (کفار کے میلے میں)
جواب
ایسے میلوں اور عرسوں میں جانا درست نہیں، خرید وفروخت کے لئے بھی نہیں جانا چاہئے، جس طرح خلاف شرع اور شرکیہ امور کا ارتکاب ممنوع ہے ایسی جگہ جا کر ان کی رونق میں اضافہ کرنا بھی ممنوع ہے، جب تک کوئی عقیدہ شرکیہ نہ ہو اور ایسا عمل نہ ہو جس کو کفر و شرک قرار دیا گیا ہو ارتداد کا حکم لگانے سے احتیاط لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔