نیک نیت سے سنیما دیکھنا اور اس کا اعلان کرنا
سوال
زید علی الاعلان یہ کہتا ہے کہ میں کبھی کبھی لمبے وقفوں کے بعد سنیما جو ٹھیٹر یا ناٹک کی قسم کا ایک تماشہ ہے، جس میں گانا بجانا، ناچ رنگ مرد و عورت کا اختلاط اور کھلے چہروں اور ننگے بازؤوں کی نمائش ہوتی ہے، دیکھتا اور فسق کا ارتکاب عمداً کر دیا کرتا ہوں، اور اللہ سے امید ہے کہ میری نیت پر نظر کر کے اس باب میں مواخذہ نہ فرمائے گا، پس زید کا یہ کہنا یعنی قول صحیح ہے۔ الف: حسن نیت کی بناء پر وہ مواخذہ اخروی سے بچ جائے گا، یا معصیت کا ضرر کم ہو جائے گا۔
جواب
سنیما دیکھنا شرعاً نا جائز ہے، اسمیں عدم جواز کی چند وجوہ ہیں، گانا بجانا، ناچ رنگ مرد و عورت کا اختلاط، کھلے چہروں اور ننگے بازؤوں کی نمائش، لہو و لعب، اضاعت وقت و مال، ان سب پر طرفہ اس کا علی الاعلان اظہار ان میں ہر وجہ عدم جواز کے لئے مستقل ہے، کتب فقہ میں ہر ایک کی ممانعت بصراحت موجود ہے، حسن نیت کو ظاہر نہیں کیا کہ وہ کیا ہے، جو نیت خلاف شرع ہو وہ ہرگز قابل قبول نہیں، اگر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔