الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سنیما دیکھنا

سوال

موجودہ زمانہ میں جو سنیما وغیرہ نکلے ہیں، جس میں انسان وحیوان کی تصویریں بذریعہ آلات موسیقی دکھلائی جاتی ہیں جس کو بولتی گاتی فلم کہتے ہیں، اس میں پیسہ خرچ کرنا، اور اس کو دیکھنا شرعاً کس قسم کا گناہ ہے، اور کیا اس پر اصرار کبیرہ ہے، اور کیا اس سے کفر لازم آتا ہے؟

جواب

سنیما وغیرہ تماشوں کو دیکھنا اضاعت وقت لہو ولعب اور گناہ ہے، اس میں پیسے خرچ کرنا اسراف ہے، جو کہ بنص قطعی ممنوع ہے، ”ولا تسرفوا انه لا يحب المسرفين“ وفی مقام آخر ”ان المبذرين كانوا اخوان الشياطين وكان الشيطان لربه كفورا“، توبہ نہ کرنے سے اصرار علی الکبیرہ ہو جائے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو