الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ستارے، بروج، چاند تک پہونچنا

سوال

اس وقت روز بروز جو خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ چاند پر پہونچنے کے مدعی اپنے برسوں کی کوشش میں کامیاب ہو گئے ہیں اس کے متعلق احق الادیان کا کیا فیصلہ ہے۔ (۱) چاند من حيث هو هو کیا ہے اور اس کے اجزاء ترکیبیہ کیا ہیں؟ (۲) قمر وارض میں کونسا بڑا ہے اور چاند کی وسعت اور طول و عمق کی کیا مقدار ہے؟ (۳) ارض کو قمر سے کیا فصل ہے اور کتنی مسافت ہے اور جو ہر آسمان کے درمیان پانچسو برس کی مسافت آتی ہے وہ کس رفتار سے ہے آیا پیادہ یا گھوڑے یا اونٹ کے اعتبار سے؟ (۴)

جواب

(۲) چاند چھوٹا ہے چاند کی وسعت طول، عمق کا علم نہیں۔ (۳) ارض و قمر کے درمیان کی مسافت کا علم نہیں۔ آسمانوں کے درمیانی مسافت سے مراد بظاہر وہ مسافت ہے جو کہ سفر شرعی میں مراد ہے بعض روایات میں اس کے علاوہ بہت تیز رفتار کا ذکر بھی آیا ہے۔ (۴) آسمان سے نیچے فلک میں ہے کماسیاتی فی رقم ۸۔ (۶)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو