الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تبدیل نسب

سوال

کسی شخص نے اپنا نام کے اخیر میں ” خان‘ لفظ لگا دیا، اور وہ اپنے خاندان کے اعتبار سے خان نہیں ہے، عذر شدید کی بنا پر اگر کوئی شخص اپنا نسب بدل ڈالے، یعنی اپنے باپ دادا کا نام بدل ڈالے اور غیر باپ کی جانب اپنے کو نسبت کرے مثلاً کسی کولندن اور اس کے پاس اپنا پارسپورٹ نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے شخص کا پاسپورٹ ہے اور اس شخص نے اس پاسپورٹ کے مطابق اپنے باپ کے نام کو بدل کر دوسرے کے باپ کو اپنا باپ مان کر غیر باپ کی جانب نسبت کیا، اسلامی کالج جہاں دینی تعلیم دی جاتی ہے، اس میں بغیر سارٹیفکٹ یا تصدیق نامہ کے داخلہ ممنوع ہے،…

جواب

اپنے باپ کے علاوہ کسی اور شخص کی طرف اپنی نسبت کرنا حرام ہے، حدیث شریف میں اس فعل شنیع پر بڑی وعید آئی ہے، ایسے شخص کیلئے جنت کو حرام قرار دیا گیا ہے، مشکوۃ شریف میں ہے: عن سعد ابن ابی وقاص وابى بكرة رضى الله عنهما قالا قال رسول الله من ادعى الى غير ابيه وهو يعلم فالجنّة عليه حرام (متفق عليه)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو