عورت کی دبر میں وطی
سوال
غالباً عرصہ ۲۵ سال ہوا ایک حدیث نظر سے گذری جس میں صحابہ کرام نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ اپنی منکوحہ عورت سے جماع بذریعہ دبر کر سکتے ہیں یا نہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ عورت تمہاری کھیتی ہے جدھر سے آؤ، اس پر صحابہ کرام نے عرض کیا کہ دبر کے ذریعہ جماع سے اولاد بھینگی پیدا ہوتی ہے، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر ایسا ہوتا تو یہودیوں کے یہاں ایسا کیوں نہیں ہوا برائے کرم اس حدیث کی توضیح اور تشریح واضح کریں؟
جواب
عورت کا مقام جماع (فرج) متعین ہے، وہی کھیتی کی جگہ ہے وہیں سے اولاد پیدا ہوتی ہے، البتہ یہ اختیار ہے کہ اس مقام پر جب جماع کرے تو اس کو چٹ لٹائے یا الٹا لٹائے، دونوں طرح اس کی اجازت ہے، یہی حاصل اس آیت کریمہ کا ہے نِسَاءُ كُمُ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأتُوا حَرَثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ فرج کے علاوہ دوسرا مقام (دبر) محل حرث نہیں، وہاں صحبت جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔