الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حقوق العباد میں کوتاہی کا علاج جبکہ صاحب حقوق معلوم نہ ہو

سوال

بلوغ کے بعد اگر حقوق العباد میں غلطی ہوئی ہو اور یاد نہ ہو، اور اگر یاد ہو مگر وہ معاملہ جس میں غلطی ہوئی ہو صحیح طریقہ پر یاد نہ ہو کہ کس سے ہوا تھا، کس طرح ہوا تھا، مثلاً کسی کو تکلیف پہنچائی تھی، یا کسی سے کوئی چیز خریدی تھی، مگر یہ یاد نہیں ہے، کہ کیا چیز خریدی تھی، اور کتنے کی؟ یا کتنی خریدی تھی؟ اور یہ بھی یاد نہیں کہ کس سے خریدی تھی، اور یہ یاد ہے کہ خریدی تھی، یاوہ شخص جس سے معاملہ ہوا تھا مر گیا ہو، اسی طریقہ سے تکلیف پہنچانے کا معاملہ بھی ہو، تو ان سب صورتوں میں کیا حکم ہے؟

جواب

تین مرتبہ قل ہو اللہ احد پڑھ کر دعا کر لیا کریں، کہ یا اللہ جس جس کو مجھ سے تکلیف پہنچی ہے اور جس کا کوئی حق میرے ذمہ رہ گیا ہو اس کا ثواب اس کو پہنچادے، اگر صاحب حق موجود ہو اور یاد بھی ہو تو اس سے معافی تلافی کر کے صفائی کر لی جائے، یا کوئی مالی حق ہوادا کر دیا جائے، صاحب حق معلوم نہ ہو تو اتنی مقدار اس کی طرف سے خیرات کر دی جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو