والدین کا معذور پیر واستاذ کی خدمت سے روکنا
سوال
اگر کسی شخص کے پیر یا استاذ دائم المریض ہوں اور بسبب کمزوری مرض و تقاضا عمر طبعی معذور بھی اتنے ہوں کہ ہمہ وقت دوسرے کی خدمت کے محتاج ہوں اور بالکل تنہا، نہ بیوی نہ بچے شاگر دیا مرید ان کی خدمت کرنا چاہیں لیکن والدین ان کی خدمت اوران کے یہاں جانے سے بھی روکیں، چونکہ والدین دینی ماحول اور دینی تعلیم و بزرگوں کی صحبت سے کورے ہیں، لیکن مرید اور شاگرد بفضلہ تعالیٰ شرع اور صوم وصلوٰۃ کے پابند ہیں، مسئلہ مسائل سے واقف اور دین کی خدمت بھی کر رہے ہوں، ان حالات کے تحت مرید اور شاگرد کی پیر اور استاذ کی خدمت اور خبر گیری…
جواب
پیراور استاذ کا مقام تو بلند ہے، اگر کوئی غیر آدمی بھی خدمت کا ایسا محتاج ہو کہ اسکی خبر گیری کرنے والا کوئی نہ ہو اسکی بھی خبر گیری کا حکم ہے، والدین کو استاذ اور پیر کی خدمت سے روکنے کا حق نہیں، جبکہ اسکی وجہ سے والدین کی خدمت ضرور یہ میں فرق نہ آتا ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔