الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اپنے افلاس کی وجہ سے زمین ایک بیٹے کے نام کرنا

سوال

زید کے دو اولاد ہیں، ۱/ خالد ۲/ ہاشم، زید اب اپنی ضعیفی اور لاغری کی وجہ سے کسب پر قادر نہیں، کچھ مدت تک کھانے وغیرہ کا نظم خالد نے کیا اس کے بعد اب ہاشم کر رہا ہے، مگر وہ سہولتیں فراہم نہیں کر رہا ہے، جو خالد کیا کرتا تھا، تاہم خالد کو اس کا احساس ہے لیکن خالد کہتا ہے کہ والد صاحب کے پاس جو زمین ہے وہ سب اگر میرے نام لکھ دیں تو میں ان کو اپنے گھر رکھوں گا اور جو کھائیں گے کھلاؤں گا، اور ہر طرح کی سہولت فراہم کروں گا تو کیا زید کے لئے یہ جائز ہے کہ اپنی ضعف عمری کی پریشانی دور کرنے کے لئے تمام اراضی اپنے لڑ کے…

جواب

اصل یہ ہے کہ ہر شخص کا نفقہ خود اس کے ذمہ اس کے مال میں لازم ہے (سوائے بیوی کے) کہ اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے، دوسرے کے ذمہ نفقہ جب واجب ہوتا ہے، جب اس کے پاس خود کچھ نہ ہو والد کا نفقہ خود والد کے ذمہ ہے اگر والد کے پاس کچھ نہ ہو تو ان دونوں لڑکوں کے ذمہ ہے خالد کا یہ کہنا کہ اگر والد زمین میرے نام لکھ دیں تو میں بہتر سہولت ان کیلئے پہنچاؤں، غلط اور بے محل ہے اس سے ہاشم کو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو