الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باپ سے تنخواہ چھپانے کا حیلہ

سوال

ایک لڑکا کہتا ہے کہ جب اس کو تنخواہ ملتی ہے تو اس کے والد اس کے پاس سے مانگ لیتے ہیں، اور لڑ کا شرم و عزت کی خاطر تمام پیسہ دیدیتا ہے، اس کے بعد اس کے والد اسکو صرف کرایہ اور خرچ کے واسطے پیسہ دیتا ہے، مگر اس کو وہ نا کافی ہوتا ہے، تو لڑکا اپنے والد کو کم تنخواہ بتا کر کم دیتا ہے، تو کیا اس طرح لڑکے کو کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ شریعت کے نزدیک چوری ہوئی یا نہیں؟ مگر ایک بات یاد رہے کہ لڑکا بالغ ہے؟

جواب

جب تنخواہ ملے تو اپنی ضرورت کے موافق اسمیں سے کسی دوسرے کے پاس رکھدے اور کہدے کہ میرے پاس اتناہی پیسہ ہے، یا کسی دوست سے قرض لے کر ضرورت پوری کرلیا کرے، اور تنخواہ ملتے ہی پہلے اسکا قرض ادا کرے، اسطرح گنجائش ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو