کیا اولاد کا نکاح ماں باپ کے ذمہ ضروری ہے
سوال
آنجناب نے تحریر فرمایا یعنی بجواب سوال نکاح اولاد کبار کا نکاح والدین کے ذمہ شرعاً ضروری نہیں محض تبرع ہے اور یہ کہ کبار اولا د خود مکلف ہیں، لہذا یہ عرض ہے کہ تبرع سے کیا مراد ہے، سنت مؤکدہ یا زائد عادیہ یا مستحب یا مندوب یا مباح یا کیا نیز یہ کہ اگر والدین یا والد فقط یا صرف والدہ یا غیر والدین خود نکاح کا اہتمام کریں اور انجام کو پہنچائیں جیسا کہ رواج ہے، یا جیسے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت فاطمہ کے نکاح کا اہتمام فرمایا تھا، تو یہ لوگ متابعت سنت عامل بالسنتہ ہونگے یا نہیں، حضور ﷺ کا حضرت فاطمہ کے…
جواب
نکاح اولاد کبار کا والدین کے ذمہ ضروری نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح نماز، روزہ وغیرہ عبادات فرض عین ہیں، کہ نص قطعی سے ثابت ہیں ان کے منکر کی تکفیر کی جاتی ہے، ہر شخص خود ادا کرنے کا مکلف ہے کسی دوسرے کے ادا کرنے سے بری الذمہ نہ ہوگا، نکاح کی یہ شان نہیں مگر نکاح میں ایک جہت عبادت کی بھی ہے، جیسا کہ پہلے جواب میں تفصیلاً بیان ہو چکا ہے، اس لئے عبادت میں اعانت کرنے سے ثواب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔