والدہ کی مانتا ہے تو والد ناراض ہوتے ہیں
سوال
زید کے والدین زندہ ہیں، زید کی والدہ کہتی ہیں کہ گھر پر کام کرو اور والد کہتے ہیں کہ دہلی جا کر کام کرو اور دہلی میں آمدنی زیادہ ہے، اگر والدہ کی مانتا ہے تو والد اس سے بولنا چھوڑ دیتے ہیں، اور اگر والد کی بات مانے تو والدہ بولنا چھوڑ دیتی ہیں، اب اس کو کیا کرنا چاہئے، والدہ کی بات کو ترجیح دے، یا والد کی بات کو ترجیح دے؟
جواب
اگر مکان پر رہ کر گزارہ نہیں ہوتا، پریشانی زیادہ رہتی ہے تو باہر جا کر کام کرے اور والدہ کو سمجھا دے کہ خفا نہ ہوں روپیہ کما کر آپ کیواسطے لاؤں گا، اور دعا بھی کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو مجھ سے خوش رکھے
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔