الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ٹھیکہ دار کے لئے سامان بچا کر خود رکھنا

سوال

زید گورنمنٹ کا پل بنوانے کا ٹھیکہ دار ہے، مثلاً ایک پل کے لئے چالیس بوریاں ملتی ہیں، اور سیر کہتا ہے کہ دس بوریاں مجھ کو دیدو، وہ دیدیتا ہے، اور سیر کہتا ہے کہ اب میں تمہارا پل پاس کر دوں گا، اور پانچ بوری خود بھی رکھ لیتا ہے، کیونکہ زید مطمئن ہے کہ اور سیر خود دس بوری لے چکا ہے، اگر اور سیر کو نہیں دیتا تو پل پاس نہیں ہوتا، ایسی صورت میں زید کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

یہ خیانت ہے، رشوت ہے، معصیت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو