الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ناجائز پیسوں سے خرید شدہ سامان کا حکم

سوال

زید نوکری پیشہ تھا، تنخواہ کے مقابلے میں بالائی آمدنی اس کی زیادہ تھی، دونوں بیویوں کو ساتھ رکھتا تھا، ان ایام میں زید نے گرم اور ٹھنڈے کپڑے مثلاً کوٹ اور گرم کرتے اور چادر وغیرہ دیگر سامان آرائش خریدے، طعام اور دوسرے لغویات پر ان بیویوں پر صرف کرتا تھا لیکن تنخواہ کے پیسے ان اخراجات کے لئے کافی نہیں تھے، تقریباً تین سال سے اس نے نوکری چھوڑ دی ہے اور خدا نے توفیق دی، اس وقت عبادت اور ریاضت میں مشغول ہے، اب سوال یہ ہے کہ اسکے پاس وہی کپڑے اور سامان ہیں جس کو اس نے ان دنوں میں خریدا تھا، اور انہیں کپڑوں کیساتھ نماز…

جواب

جتنے پیسے اس نے ناجائز طریقے پر حاصل کئے آہستہ آہستہ مالک کو واپس کرے، مالک کا علم نہ ہو تو غرباء کو اس کی نیت سے صدقہ کرتا رہے، اور جب تک حلال پیسہ میسر آئے ان کپڑوں کو استعمال کرتا رہے اور استغفار بھی کرتا رہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو