صبی کی ملک میں مربی کا تصرف
سوال
ایک شخص کی نگرانی میں ایک خاندان کا بچہ تعلیم کے واسطے سپرد کیا گیا، بچہ کے نام جاگیر ہے، اسکو ہبہ کیا جاتا ہے، اس کے نام روپیہ آتا ہے، تو وہ نگراں اپنی ضروریات میں بھی خرچ کرتا ہے، وہ بچہ غصب کرتا ہے کہ کوئی چیز چراتا ہے یا اس کو صدقہ کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ سید ہے طالب علم مسافر بھی ہے نابالغ تو ہے ہی نگراں بھی دست نگر اور تنگدست ہے، ایسی صورت میں شریعت کے کیا احکام ہیں، اور ان کے ضبط کے لئے کیا قاعدہ کلیہ ہے مدلل و مشرح بیان فرمائیے۔؟
جواب
اس بچہ کو صدقات واجبہ لینا نا جائز ہے، چوری غصب بھی ممنوع ہے، نگراں کو اس کی ملک میں اپنی ذات کے لئے تصرف درست نہیں اس کا ہدیہ بھی قبول نہیں کرنا چاہئے، بچہ کو ہدیہ قبول کرنا صحیح ہے ”قبول الصبي العاقل الهبة صحيح“ اہ اشباہ ص ۱۹۵ / شرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ اہ سكب الانهر ج ۲ / ص ۲۵۳. اور جو احکام دریافت طلب ہوں تفصیل سے تحریر کیجئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔