الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ناجائز آمدنی سے خریدے ہوئے مال کا حکم

سوال

(۱) زید کے قبیلہ میں شراب کی تجارت ہوتی ہے، زید دینی زندگی گزارنا چاہتا ہے، لیکن زید کے قریبی رشتہ دار اس تجارت میں مبتلا ہیں لیکن بعض نے اس تجارت کے پیسہ سے دینی زندگی گزارنے کیلئے توبہ کر کے دوسری تجارت شروع کر دی ہے، مکان، کھیتی وغیرہ، تو کیا اسکی یہ تجارت اور زید کا ان رشتہ داروں کے یہاں آمد و رفت، خورد و نوش جائز ہوگا؟ (۲) ان لوگوں کے بچے زید کے یہاں زیر تعلیم ہیں تو کیا زید کا تعلیم کیلئے یہ پیسہ لینا جائز ہوگا جو کہ اس مال میں سے ہیں؟

جواب

(۱) محض توبہ کر لینے سے مال پاک نہیں ہوا بلکہ وہ کل مال یا اسکی مقدار صدقہ کرنا واجب ہے، البتہ اگر اسی مال سے زمین خریدی گئی ہے، یا اس سے کوئی جائز تجارت کی جارہی ہے تو اس زمین و تجارت کی آمدنی حلال ہوگی، اور انکے یہاں خورد و نوش، آمد ورفت بھی جائز ہوگی لیکن اس پر ضروری ہوگا کہ جتنے نا جائز روپے اس نے زمین یا تجارت میں لگائے ہیں، اس مقدار کو صدقہ کر دے اگر چہ اسکی آمدنی سے ہی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو