الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چوری کا کوئلہ واپس کرنا چاہئے

سوال

زید ریلوے میں ملازم ہے، اور بکر کا دوست ہے زید ریلوے سے کوئلہ چرا کر لاتا اور جلاتا ہے، بکر کو اس کا علم ہے کہ زید ریل کا کوئلہ چرا کر لاتا ہے، اس کے علم کے باوجود بکر نے زید سے کوئلہ منگوایا تو زید نے کسی آدمی کے ہاتھ کوئلہ لا کر بھجوا دیا، کوئلہ منگانے کے بعد بکر کو خیال ہوا کہ کوئلہ واپس کر دیں لیکن کوئلہ واپس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ زید دور شہر میں ملازم اور بکر ایک دیہات میں رہتا ہے، اس لئے اس کوئلہ کی واپسی ناممکن ہے،ایسی صورت میں کوئلہ کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟

جواب

چوری کا کوئلہ استعمال نہ کیا جائے، اگر اسکو واپس کرنا ممکن نہ ہو تو کسی غریب کو اس نیت سے دیدیا جائے کہ اللہ پاک اسکے وبال سے نجات دے، جو شخص وہاں ملازم ہو اس سے واپسی کی ترکیب دریافت کر لی جائے ممکن ہیکہ کوئی ترکیب نکل آئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو