ڈاکوؤں کو تعویذ کے ذریعہ ہلاک کرنا
سوال
ایک گاؤں کے چند آدمی ڈاکہ زنی کے عادی ہو گئے ہیں جن سے عام لوگ بہت پریشان ہیں، ایسے لوگوں کا شریعت میں کیا حکم ہے؟ کیا ایسے لوگ ہلاک کر دینے کے قابل ہیں؟ اگر تعویذات اور عملیات سے ان کو ہلاک کر دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟
جواب
ڈاکوؤں کی اصل سزا قرآن پاک میں قتل، صلب قطع بھی مذکور ہے۔ مگر اس کو جاری کرنا ہر ایک کے اختیار میں نہیں دیا گیا بلکہ اس کے لئے ایک خاص قسم کا تسلط وغلبہ والا امیر المومنین ہونا ضروری ہے، اس کی زیرنگرانی یہ سزا دی جا سکتی ہے۔ لیکن جان، مال، اولاد، عزت کی حفاظت کی تدبیر اختیار کرنا ضروری ہے اور اس سلسلہ میں حکومت سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔