الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہمزاد تابع کرنا دستِ غیب اور کیمیا وغیرہ

سوال

(الف) اپنا ہمزاد یا کسی دوسرے کا ہمزاد تابع کرنا جائز ہے اسی طریقہ سے ان کے ذریعہ کسی کار خیر کو انجام دینا یا کوئی اسلامی خدمت کرنا یا ان سے ذاتی خدمت کرانا کیا حکم رکھتا ہے دست غیب کے متعلق اگر یہ یقینی طور سے معلوم ہو جائے کہ یہ عطیہ ہم کو موکلات اپنی جیب خاص سے دیتے ہیں غیر کا مال نہیں لاتے تو اس کا صرف کرنا اس وقت جائز ہو گا یا نا جائز؟ (ب)

جواب

(الف) ہمزاد کیا ہے اور تابع کرنے کا طریق کیا ہے جب تک طریقہ معلوم نہ ہو جواب نہیں دیا جا سکتا۔ لا يجوز لاحد من المسلمين اخذ مال احد بغیر سبب شرعی (فتاوی عالمگیری، ص ۷۷۸، ج ۲) کسی مسلمان کیلئے کسی کا مال بغیر سبب شرعی کے لینا جائز نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو