سانپ کے کاٹے کا علاج
سوال
(۱) بنگال میں سانپ کثرت سے ہوتے ہیں، اکثر کاٹ بھی لیتے ہیں، وقت پر علاج کرنے والا کوئی مسلمان نہیں ملتا، تو ہندوؤں سے علاج کراتے ہیں، وہ لوگ جھاڑ پھونک سے علاج کرتے ہیں، تو ان سے جھاڑ پھونک کرانا کیسا ہے؟ (۲) بعض دفعہ یہ لوگ ہاتھ چلاتے رہتے ہیں، اور پتہ لگاتے ہیں کہ زہر اتر گیا یا باقی ہے، لہذا اس پر اعتقاد رکھنا کیسا ہے؟ (۳) اگر آپ کے پاس اس کا کوئی علاج ہے تو براہ کرم تحریر فرمائیں؟
جواب
(۱) اگر یہ متعین ہے کہ وہ اس جھاڑ پھونک میں شرکیہ کلمات پڑھتے ہیں، تو ان سے جھاڑ پھونک کرانا جائز نہیں، اگر محض احتمال ہو تو مکروہ ہے۔ (۲) یہ ایک تجربہ کی چیز ہے، جس کو تجربہ ہوگا بتا سکے گا کوئی شرعی اعتقادی چیز نہیں، جس سے ایمان کا خطرہ ہو، یہ ایسے ہی ہے جیسے کہ مقیاس الحرارة سے بخار دیکھ لیتے ہیں، یا اطباء نبض سے بخار اور اس قسم کی معلومات کر لیتے ہیں۔ (۳)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔