آیت قرآنی کے ذریعہ چور کا نام نکالنا
سوال
ایک شخص برابر قرآن کے ذریعہ چوروں کا نام نکالنے اور نکل جانے کو صحیح ماننا ضروری قرار دیتا ہے اور انکے نام نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ قرآن کو ایک تاگے یا رسّی میں باندھ کر لوہے کی کیل کے بیچ میں لٹکا کر اس کیل کو دو شخص کیل کے دونوں سروں کو ایک ایک شہادت کی انگلی پر اٹھا لیتے ہیں اور اٹھانے کی حالت میں قرآن کیل کے بیچ میں لٹکا رہتا ہے۔ اب نام نکالنے والے کا کہنا ہوتا ہے کہ جب اصل چور کا نام پرچہ پر لکھا ہوا قرآن میں ڈالا جائے گا تو قرآن گھومنے و چکر لگانے لگے گا۔ بس سمجھ لیجئے کہ چور اصل یہی ہے جس کے نام پر گھوم گیا۔
جواب
یہ حرکت قرآن کریم کے احترام کے خلاف ہے، بے ادبی ہے اور اہانت کو مستلزم ہے۔ اگر کسی کا نام نکل بھی آئے تو یہ شرعی حجت نہیں۔ اس کے ذریعہ اس کو چور قرار دینا جائز نہیں۔ اس پیشہ کو ترک کرنا اور توبہ کرنا لازم ہے۔ اس سے عقائد بھی فاسد ہوتے ہیں بہتان کا بھی دروازہ کھلتا ہے، بد گمانی بھی پھیلتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔