چور کا نام نکالنا
سوال
فال نکالنا یعنی نام نکالنا یہ جائز ہے کہ نہیں؟ جب کہ اکثر مشاہدہ میں یہ بات آگئی ہے کہ اس میں غلط نام آتا ہے، دوسرے آدمی کو غلط رسوا اور بدنام کیا جاتا ہے اور اکثر چوری دستیاب بھی نہیں ہوتی ہے۔
جواب
یہ فال نکالنا شرعی دلیل نہیں ہے جس کا نام نکلے اس کو چور قرار دے کر ز بر دستی اس سے مال مسروقہ وصول کرنا یا اس کو سزا دینا، گرفتار کرانا یا اس کو ذلیل اور رسوا کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اس مقصد کے لئے ہو کہ چور ہو گا تو وہ ڈر کر مال واپس کر دے گا۔ تو یہ تدبیر درست ہے۔ لیکن اگر اس تدبیر سے نہ دے تو اس کو یقینی چور نہیں کہا جائے گا۔ اور کسی قسم کی زیادتی کا حق نہیں ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔