علیه السلام وترضی وترحم
سوال
دور نبوت وصحابہ وتابعین میں حضرات اولیاء کرام کیلئے علیہ السلام اور صحابہ کرام کیلئے رضی اللہ عنہ، تابعین کیلئے رحمۃ اللہ علیہ جیسے آج کل بولا جاتا ہے، بولا جاتا تھایا نہیں؟
جواب
قرآن کریم نے صحابہ کرام کیلئے رضی اللہ عنہم کا لفظ استعمال کیا ہے، بعض صحابہ کیلئے نبی کریم ﷺ نے بھی ان کی وفات (شہادت) پر یہ لفظ ارشاد فرمایا ہے۔ اور صحابہ و تابعین کے زمانہ میں ذرا زیادہ یہ لفظ مستعمل ہوا پھر عام ہو گیا، انبیاء علیہ السلام کیلئے لفظ علیہ السلام دور نبوی ہی میں زیادہ مستعمل تھا صحابہ کرام بھی استعمال فرماتے تھے اور بعد کے حضرات بھی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔