الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

علیہ السلام اور امام کا استعمال

سوال

زید کہتا ہے کہ حدیث پاک مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ کی روشنی میں اہل سنت والجماعت کو ہر اس چیز سے بچنا چاہئے جو کسی قوم کا خاصہ اور شعار ہو مثلاً روافض کا شعار ہے کہ وہ حضرات حسنین کے لئے علیہ السلام کہتے ہیں اور جب اپنے بچوں کے نام رکھتے ہیں تو حیدر علی، امام علی، حسن علی، حسین علی، جواد علی، باقر حسین، کاظم رضا وغیرہ وغیرہ جیسے نام رکھتے ہیں اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ جب اس قوم کا کوئی نام آتا ہے اور اس شخص کے بارے میں یہ نہ معلوم ہو کہ وہ سنی ہے یا شیعی تو فوراً اس طرف ذہن جاتا ہے کہ ہو نہ ہو شیعہ…

جواب

شرح فقہ اکبر ص ۲۰۴ میں ملا علی قاری نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ علیہ السلام لکھنے کو شعار شیعہ واہل بدعت فرمایا اس لئے وہ منع فرماتے ہیں۔ صحابہ کے ساتھ ترضی اہل سنت والجماعت کا شعار ہے۔ فتاوی عزیزی میں اسکی بھی اجازت ہے ابو داؤد شریف اور بخاری شریف کی اسانید میں انکے اور چند ناموں کے ساتھ علیہ السلام کا لفظ موجود ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کسی جگہ مخصوص شعار ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو