علیہ السلام اور رضی اللہ عنہ کا استعمال
سوال
علیہ السلام کہنا کیا انبیاء علیہم السلام کے لئے خاص ہے اگر ایسا ہے تو پھر فرشتوں کو مثلاً جبرئیل علیہ السلام، اسرافیل علیہ السلام۔ کیوں کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سنا گیا ہے کہ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کے لئے خاص ہے۔ مگر بعض عوام اور بعض بزرگان دین کو سنا گیا ہے کہ وہ صحابہ کرام کے علاوہ دیگر حضرات مثلاً امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور بریلوی حضرات اعلیٰ حضرت کو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو یہ کہاں تک درست ہے۔
جواب
سلام دعائیہ کلمہ ہے، جو اپنی اصل کے اعتبار سے غیر انبیاء علیہم السلام کیلئے بھی بولا جا سکتا ہے، ہمیشہ وقت ملاقات اسکی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ السلام علیکم وعلیکم السلام پنجگانہ نمازوں کے ختم پر امام اور مقتدی سب ہی کہتے ہیں۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ، اسمیں امام اور مقتدی نیز ملائکہ کی نیت کی جاتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔