الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایضاً

سوال

حضرت صدر مفتی صاحب۔ دارالعلوم دیوبند السلام علیکم ورحمة الله وبركاته سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو علیہ السلام کہنا، اس کے جواز کا فتویٰ دارالعلوم سے صادر ہونا سخت حیرانی کا باعث ہے، غالباً کسی نو مشق طالب علم نے فتوی کی ترتیب دی اور آپ حضرات نے بلا تعمق کے تصدیق فرما کر اہل سنت والجماعت کے کاز کو نقصان پہنچایا۔ (۱) قرآن کریم کا طریقہ یہ ہے کہ اسنے انبیاء کے اسماء کے ساتھ سلام اور ذکر صحابہؓ کے ساتھ ترضی کا استعمال کیا ہے۔

جواب

سلام ایک تحیہ اور دعاء ہے۔ زندوں کیلئے بھی مردوں کیلئے بھی، ملاقات کے وقت اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ السلام علیکم، وعلیکم السلام اسکے ساتھ ورحمۃ اللہ اور وبرکاتہ بھی ثابت ہے۔ سلام کیلئے یہ بھی ضروری نہیں کہ پہلے جان پہچان ہو تو سلام کیا جائے۔ بلکہ وَتَقْرَأُ السَّلامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِف اه بخاری۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو