شوہر کو بھیا کہنا
سوال
ایک محترمہ ہیں جن کو بات بات میں بھیا کہنے کی عادت ہے مثلاً آؤ بھیا جاؤ بھیا لاؤ بھیا نہ بھیا وغیرہ وغیرہ اسی طرح وہ اپنے شوہر سے بھی مخاطب ہوتی ہیں میں نے ان کو کئی بار ٹوکا مگر ان کا جواب یہ ہوتا ہے کہ بے خیالی میں ان کی زبان سے نکل جاتا ہے وہ دل سے نہیں کہتی ہیں اس صورت میں ان کے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑا؟
جواب
بیوی کے لئے یہ بات مکروہ ہے کہ شوہر کو بھیا کہے اس کی احتیاط چاہئے مگر اس کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ نہیں ہوا نہ وہ اپنے شوہر پر حرام ہوئی زبان پر جو لفظ بطور تکیہ کلام چڑھ جاتا ہے وہ اگر غلط ہو تو اس کی اصلاح چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔