الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دو پارٹیوں میں صلح

سوال

ایک گاؤں میں دو مسئلوں کا جھگڑا ہے ایک طلاق کا دوسرا سود کا ہے۔ ان دونوں مسئلوں کی وجہ سے دو پارٹی بنی ہوئی ہے جس کو چھ سات سال ہو رہے ہیں۔ بہت مرتبہ آپس میں صلح کرانے کی کوشش ہوئی اور بہت سے علماء نے بھی کوشش کی مگر فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ ایک پارٹی دوسری پارٹی کی بات نہیں مانتی ہے۔ ہر پارٹی دوسری پارٹی کی برائی کرتی ہے اور فیصلے کے درمیان لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے آج تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا اور آئندہ کے لئے بھی صلح مشکل نظر آتی ہے، کیونکہ کوئی کسی کی بات نہیں مانتا اور نہ تو کوئی کسی عالم کی بات مانتا ہے۔

جواب

یہ مرض بہت عام ہے بڑی کثرت سے لوگ اس میں گرفتار ہیں اور کسی صورت سے نجات نہیں پاتے۔ اگر بغیر ان دو مسئلوں پر بحث کئے ہوئے بھی صلح ہو سکتی ہے تب بھی صلح کرادی جائے۔ مثلاً ایک پارٹی کہتی ہے کہ سود لینا جائز ہے دوسری کہتی ہے کہ نا جائز ہے اور کوئی پارٹی اپنے اپنے خلاف بات سننے اور ماننے کو آمادہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو