ڈاکٹر کے سامنے اپنا بدن کھولنا
سوال
اللہ تعالیٰ نے جو پردہ کا اور نامحرم سے چھپنے کا حکم پارہ ۱۸ رکوع ۱۰ آیت ۴ میں فرمایا ہے، اس میں کوئی استثناء بھی مرض وغیرہ کی حالت میں نامحرم معالج کے روبرو بے حجاب ہونے کا اور اپنے تمام جسم کو تصرف میں دینے کا دیا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی زوجہ ایسا فعل کرے تو اپنے خاوند کے ناموس میں خلل ڈالا کہ نہیں، اور ایسی صورت میں شوہر کو اس سے باز پرس کا حق ہے یا کہ نہیں؟
جواب
جس حصہ جسم کو چھپانا فرض ہے، اگر اس میں کوئی تکلیف زخم وغیرہ ہو کہ بغیر معالج کے سامنے کھولے علاج نہ ہو سکتا ہو تو صرف اتنا حصہ شدت ضرورت کے وقت کھولنا شرعاً درست ہے، اس سے زیادہ نامحرم کے سامنے کھولنا جائز نہیں، اس میں بہتر یہ ہے کہ معالج کسی عورت کو علاج سکھلا دے اور وہ عورت علاج کر دے تا کہ مرد کے سامنے کھولنے کی نوبت ہی نہ آوے، اگر یہ دشوار ہو تب مرد کے سامنے کھولنے کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔