سونے کے بٹن کرتے میں
سوال
سونا استعمال کرنا مردوں کے لئے حرام ہے لیکن سابق صدر مفتی حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب علیہ الرحمہ نے اپنے فتاوی دارالعلوم میں لکھا ہے کہ سونے کا بٹن مردوں کے لئے استعمال کرنا جائز ہے، دلیل در مختار وغیرہ سے پیش کر کے یہ فرمایا کہ چونکہ یہ بٹن مستقل نہیں بلکہ لباس کے تابع ہیں، لہذا درست ہے، آیا واقع میں درست بھی ہے یا نہیں؟ کیونکہ بہت دنوں کے بعد اس پر نگاہ پہنچی ہے، اس لئے تعجب ہو رہا ہے، ورنہ حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب کے فتوی کو دیکھنے کے بعد لب کشائی کی گنجائش نہیں رہ جاتی؟
جواب
اگر سونے کے بٹن کرتے میں گندھے ہوئے ہیں تو یہ کرتے کے تابع ہو کر جائز ہے ”لابأس بازرار الديباج او الذهب (الدر مختار على هامش الشاميه، ج ۵ ص ۳۴۸)“ اور اگر الگ بنے ہوئے ہیں، اور کرتہ میں لگاتے ہیں جیسا کہ آج کل رواج ہے تو نا جائز ہے اس لئے کہ اس صورت میں وہ کرتہ کے تابع نہیں ہونگے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔