دانت پر خول
سوال
زید اور عابد کے درمیان اس بات پر گفتگونا گوار حد تک پہنچی ہوئی ہے، زید کا کہنا ہے کہ آدمی اپنے دانت پر خول چڑھائے چاہے سونا ہو یا چاندی، یا اسٹیل ہرصورت میں، حرام ہے، اس کی نماز اور غسل جنابت کچھ بھی ادا نہیں ہوتا، اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ہے، اور عابد کا کہنا ہے کہ ٹوٹا ہوا دانت چاہے پلاسٹک پر خول چڑھا کر دانت کو جمائے کوئی حرج نہیں ہے، خول سونے کا ہو یا چاندی کا یا اسٹیل کا ہر صورت میں جائز ہے غسل اور وضو میں کوئی فرق نہ پڑے گا؟
جواب
اگر بغیر خول چڑھائے دانت کا قائم رہنا دشوار ہو تو چاندی کا خول چڑھا لینا درست ہے غسل کے وقت اس کو اتارنے سے معذوری ہو تو بغیر اتارے بھی غسل درست ہو جائیگا، نماز بھی درست ہو جائے گی، سونے کے خول میں اختلاف ہے احتیاط یہ ہے کہ اس سے پرہیز کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔