ٹوپی اور عمامہ سے نماز
سوال
ٹوپی سے نماز پڑھانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے یا نہیں (حوالہ کی سخت ضرورت ہے) اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ٹوپی سے نماز پڑھانی مکروہ ہے، اس کی کیا اصل ہے، اس میں اس قدر غلو کرنا کہ فساد پر آمادہ ہو جائیں، کیا حکم رکھتا ہے، اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹوپی سے نماز پڑھنے کا ثبوت ہے تو مہربانی فرما کر حوالہ ضرور دیجئے کہ فلاں کتاب میں درج ہے، اللہ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے؟
جواب
یہاں دو امر غور طلب ہیں، اول صرف ٹوپی کا بغیر عمامہ کے استعمال کرنا، دوم صرف ٹوپی سے نماز پڑھانا یا امامت کے لئے عمامہ کا ضروری ہونا،سوامر اول کے متعلق عرض ہے، کہ ابوداؤد شریف کی روایت ہے کہ ”فرق ما بيننا وبين المشركين العمائم على القلانس “ گواس حدیث پر ترمذی اور بخاری نے کلام کیا ہے، ترمذی نے کہا ہے ”ھذا حدیث غریب واسناده ليس بالقائم“ بخاری نے کہا ہے ”ھو واہ “ تاہم بذل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔