عمامہ کی مقدار
سوال
نماز کے وقت اکثر پیش امام ٹوپی پر کوئی کپڑا یا رومال لپیٹ لیا کرتے ہیں، اور ایسا نہ کرنے والے کے ساتھ طعن و تشنیع سے پیش آتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ نماز میں پیش امام کو عمامہ باندھنا چاہئے یہ فعل ان کا کیسا ہے، اگر کپڑا ٹوپی پر لپیٹے تو کتنا لمبا ہونا چاہئے، کیا اس کے لئے کوئی قید ہے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر مقتدی نصف سے زائد جماعت میں ہوں جو عمامہ باندھے ہوئے ہوں اور پیش امام ٹوپی پہنتا ہو تو نماز مکروہ ہوتی ہے؟
جواب
نماز بغیر عمامہ کے بلا کراہت درست ہے، تو پھر طعن و تشنیع کرنا برا ہے بلکہ اگر فعل مستحب کے ساتھ وجوب کا معاملہ کیا جائے تو اس کا ترک کرنا ضروری ہوتا ہے، لہذا ایسی صورت میں بغیر عمامہ کے کبھی کبھی نماز پڑھانا ضروری ہے، اگر تمام مقتدی بھی عمامہ باندھے ہوئے ہوں، اور امام ٹوپی پہنے ہوئے ہو تب بھی نماز میں کراہت نہیں آتی، ”وقد اشتهر بين العوام ان الامام ان كان غير متعمم والمقتدون…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔