ٹوپی کی مقدار
سوال
بازار میں مختلف قسم کی ٹوپی چالو ہے، اس میں سے کسی قسم کی سنت ہے اور کس قسم کی ٹوپی کون کون نبی کے زمانے میں چالو ہوئی ہے؟
جواب
مجھے معلوم نہیں آپ کے بازار میں کس کس قسم کی ٹوپی چالو ہے، حدیث پاک میں اتنا موجود ہے، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹوپی مبارک گول تھی، اور سر مبارک سے ملی ہوئی تھی، اور طویل ٹوپیاں بھی صحابہ کرام سے منقول ہیں، یہاں تک کہ ٹوپی سے سترہ کا کام لینا بھی مروی ہے، اور کتب فقہ میں سترہ کی مقدار ایک ذراع لکھی ہے، جیسا کہ بحر الرائق میں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔