الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شوہر کا خون بیوی کے جسم میں داخل کرنا

سوال

عورت بالکل مریض ہو چکی ہے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ اس کے بدن میں خون داخل کیا جائے، کسی اور کا خون سیٹ نہیں ہوتا، سوائے شوہر کے خون کے، اب شوہر کا خون عورت کے بدن میں داخل کیا جاتا ہے، عورت کی صحت کیلئے کیا اس طرح سے خون عورت کے بدن میں داخل کرنے سے دونوں کے درمیان نکاح باقی رہے گا؟ اگر نہیں تو دونوں کے درمیان نکاح کی کیا صورت رہے گی؟

جواب

اس عمل کی وجہ سے نکاح فاسد نہیں ہوگا، مگر انسانی خون کا استعمال داخلی اور خارجی ہر طرح حرام ہے، چاہے وہ شوہر کا ہو، یا کسی اور کا، لہذا جب تک اضطرار کا درجہ نہ ہو جائے اسکی ہرگز اجازت نہیں، مثلاً کسی کے پاس کھانے کو کچھ نہیں وہ مرنیکے بالکل قریب ہے صرف سور کی دو بوٹی موجود ہیں، جس کو کھالے تو جان بچ جائے، تو وہ ایسی حالت میں مضطر ہے، اس کیلئے حالت اضطرار میں سور کی بوٹی کھانے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو