الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حاملہ کے انتقال کے بعد بچہ آپریشن کر کے نکالنا

سوال

زید کی بیوی کے بچہ ہونے والا ہے، اور ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق چند منٹ کے بعد ہی تولد ہونے کی امید ہے، ٹھیک اسی وقت زید کی بیوی کا انتقال ہو گیا، ڈاکٹر کی رائے ہے کہ چونکہ بچہ پیٹ میں زندہ ہے، اسلئے دس منٹ کے اندر آپریشن کر کے نکال لینا چاہئے جبکہ زید کی رائے یہ ہے کہ چونکہ بیوی کا انتقال ہو چکا ہے، اور انتقال کے بعد کسی قسم کا بھی آپریشن حرام ہے، آیا بچہ کو زندہ آپریشن کے ذریعہ نکالنا چاہئے یا نہیں؟

جواب

اگر بچہ زندہ ہے تو آپریشن کر کے بچہ کو نکال لیا جائے، ”امرأة حامل ماتت وعلم ان مافي بطنها حي فانه يشق بطنها من الشق الايسر وكذلك اذکان اکبر رائهم انه حي يشق بطنها كذافى المحيط وحكى انه فعل ذلك باذن ابي حنيفة فعاش الولد كذا في السراجية اھ عالمگیری ج ۴، ص ۱۱۴/“۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو