الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طبی تحقیق کے لئے میت کو چیرنا

سوال

تحقیق طلب امر یہ ہے کہ طبیہ کالجوں میں آج کل فنِ تشریح پڑھانے کے لئے مردہ کا ڈھانچہ سامنے رکھا جاتا ہے، اور اس کی چیر پھاڑ کر کے طلباء کو سمجھایا جاتا ہے، اور یہ چیز آج کل طبی تعلیم کے لئے ضروری ہے، اب سوال یہ ہے کہ شرعاً مردہ جسم کی بیع وشراء اور اس کا طبیہ کالج میں رکھنا اور چیر پھاڑ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بہشتی زیور، ج ۹/ص۱۰۳/ طبی جو ہر میں اس کو ممنوع لکھا ہے، لیکن موجودہ دور میں اس سے بچنا مشکل ہے، اگر کوئی جواز کی صورت ہو تو تحریر مدل فرما کر ممنون فرمائیں؟

جواب

مردہ جسم کی بیع و شراء جائز نہیں، باطل ہے، طبی تعلیم کے لئے اس کو سامنے رکھ کر چیر پھاڑ کے تجربہ ومشق کے لئے بھی جائز نہیں، اس نوع کی تعلیم ہی واجب نہیں کہ اس کی خاطر حرام فعل کو جائز کرنے کی کوشش کی جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو