مشرک ڈاکٹر سے علاج کرانا
سوال
ایک مشرک ڈاکٹر یا وید روزانہ علی الصبح اُٹھ کر اپنے معبود بتوں کی پرستش کر کے ان سے اپنے پاس آنے والے مریضوں کی شفاء کے لئے مدد مانگے ایسے مشرک ڈاکٹر یا وید سے مسلم اور غیر مسلم دونوں علاج کراتے ہیں، اور اس سے شفاء پاتے ہیں، اب بات یہ ہے کہ مذہب اسلام میں غیر مذہب سنت سادھو پنڈت وید یا ڈاکٹر کتنا ہی اعلیٰ درجہ کا ہومگر اس سے ایک ادنی مسلمان ہزاروں درجہ بہتر ہے، تو کیا مسلمانوں کے لئے جائز ہے کہ ایسے ہندو ڈاکٹر یا وید و غیرہ سے علاج کرائے؟
جواب
اگر وہ ڈاکٹری اور طب کے ذریعہ علاج کرے تو اس کے کرنے میں مضائقہ نہیں، کیونکہ بزرگی سے اس کا تعلق نہیں، بلکہ فن اور تجربہ سے ہے، ہاں اگر کوئی اس کو غیر اللہ کی پرستش کی وجہ سے بزرگ اور مقبول سمجھتا ہے، اور اسی وجہ سے علاج کراتا ہے، تو اس کی اجازت نہیں، یہ خطرناک ہے، ایمان کی دولت سے جو مجرد ہو وہ ہرگز اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہو سکتا، خواہ دنیا میں کتنا ہی مالدار اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔