الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک شریک کا مشترک مکان سے نفع اٹھانا

سوال

مسمی عبداللہ نے ۱۹۰۱ء میں ایک مکان تعمیر کرایا جس میں وہ خود اور اس کے تین لڑکے زید، عمر، بکر رہتے تھے، مکان کے اندر ایک قطعہ اراضی خالی پڑی تھی، جس کو عبد اللہ کے بڑے لڑکے نے بہ اجازت والد بلا شرکت غیر اپنے لیے تعمیر کرایا، مسمی عبداللہ نے اپنی حیات میں ہی مکان کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا لیکن زید کو کچھ حصہ زیادہ دیا بوجہ زیادہ بال بچے دار ہونے کے، اس کو تینوں نے بخوشی منظور کر لیا، بوقت تقسیم زید کے علاوہ عمر اور بکر بھی تھے، جن کی عمر تقریباً بیس اور پچیس سال کے درمیان تھی، عرصہ تقریباً چالیس سال کا ہو رہا ہے…

جواب

اگر عبداللہ نے وہ مکان تینوں لڑکوں کو ہبہ کر دیا، اس طرح کہ ہر ایک کا حصہ جدا گانہ ممتاز کر کے ہر ایک کا قبضہ کرا دیا، اور اپنا قبضہ اٹھا لیا تو ہبہ تام اور نافذ ہو گیا، اور تینوں کی ملک اپنے اپنے حصہ پر ثابت ہوگئی پھر اگر دولڑکوں نے اپنے اپنے حصہ سے نفع نہیں اٹھایا بلکہ اپنے تیسرے بھائی کو اس کی اجازت دیدی کہ وہ تنہا مکان میں سکونت کرلے اور خود دوسری جگہ چلے گئے، پھر تو یہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو